کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن ہوتے اہمیت کے حامل ہیں۔ ابھی عمار بھائی کے     بلاگ پر مطالعے اور ہمدرد کتابستان کے حوالے سے تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ اسی قسم کے مسائل صرف لوگوں تک ہی نہیں خود اردو کو بھی پیش ہیں۔ مطالعہ تو خیر اب بہت ہی کم ہو گیا ہے یا اگر ہے تو اس حد تک کہ کہیں نظر پڑ گئی تو کوئی اقتباس پڑھ لیا یا پھر وہ ہیں جو ابھی زیرِ تعلیم ہیں اور اپنی کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کے لئے ہی ضروری نہیں مطالعہ آپکی معلومات میں اضافے کا واحد ذریعہ ہے۔ آپ خود پڑھتے ہیں دوسروں کو بتاتے ہیں تو علم پھیلتا ہے۔ ہم پڑھنا ہی چھوڑ دیں تو کون کسے کیا بتائے اور کہاں تک معلومات ملیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل میں معلوماتِ عامہ کی کمی ہے۔ اردو کو جہاں لوکلائز کر کے اب تقریباً ہر جگہ پہنچا دیا گیا ہے وہیں اردو میں برقی کتب اور خاص کر وہ کتب جو برقی شکل میں موجود نہیں ترتیب دینا بہت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ جیسا کہ عمار بھائی نے کہا کہ ہمدرد کتابستان کی کتابیں اب تریباً نا پید ہو گئی ہیں اور چونکہ ان کی پرنٹنگ اب بالکل ہی نہیں ہو رہی تو ایک دن یہ نہ ہو کہ ہمیں ان کی ضرورت پڑے اور ہم ڈھونڈتے رہ جائیں۔
اس مسئلے کا ایک حل تو یہی ہے کہ ہم لوگ جو وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرتے ہیں اس کا تھوڑا سا حصہ نکال کر تمام کتب کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور پھر ان کو مصنف یا پبلشر وائز ترتیب دی جائے اور اس میں اس بات کا خاص دیہان رکھا جائے کہ جو کتب اب تک برقی شکل میں نہیں آئی ان کو برقی شکل میں ڈھالا جائے اور جو کتب موجود ہیں ان کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔ اردو فورمز اس سلسلے میں بہت کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اردو ویب،محدث لائبریری، القلم، پاکستانی پوائنٹ اور ون اردو نے اس سلسلے میں قابلِ قدر کام کئے ہیں کہ سکین کر کے کتب کو برقی شکل میں ڈھالا لیکن ان کا کام یا ان میں سے کچھ فورمز کا کام صرف اپنے فورمز کی تشہیر تھا جبکہ اردو ہمیں یہ کام محض اردو کے اس سرمائے کو بچانے کے لئے
کرنا ہے۔ اس پر غور کریں۔
دوسری قابلِ ذکر بات ہے اردو میں لکھنا اور پڑھنا، میں نے اب تک صرف اردو ویب محفل فورم پر اس کام کے لئے ایک الگ فورم دیکھا ہے جہاں اردو لکھنے پڑھنے میں مدد دی جاتی ہے۔ بلاگ سے لیکر فورم اور آپریٹنگ سسٹم تک کا اردو ترجمہ وجود میں آچکا ہے لیکن اس وقت بھی ہمارے بہت سے ساتھی اردو میں لکھتے ہوئے کتراتے ہیں۔ان کے لئے انگریزی یا خاص کر رومن اردو ایک آسان راستہ ہے جبکہ کم از کم ہم لوگ جن کی مادری زبان اور قومی زبان اردو ہے ہمیں اردو میں لکھنا چاہئے۔
اس سلسلے میں اب کوئی ایسا مشکل کام سامنے نہیں، ایک وقت تھا جب اردو میں لکھنے کے لئے ان پیج کی ضرورت پڑا کرتی تھی، اب تو ایک چھوٹا سا انسٹالر موجود ہے جسے انسٹال کرنے کے بعد آپ کسی بھی سافٹ ویئر میں با آسانی اردو لکھ سکتے ہیں اور کسی بھی ویب پورٹل جیسے فیس بک یا ٹویٹر پر اردو میں لکھ سکتے ہیں اور بات چیت کر سکتے ہیں۔یہ انسٹالر استعمال کر کے کوشش کریں کہ آپ اردو میں لکھیں، شروع میں مشکل ہوگی لیکن وقت کے ساتھ آپکو انگریزی کی جگہ اردو میں لکھتے ہوئے مزہ آئے گا۔ میرے ساتھ بھی ایسا تھا آج سے پانچ برس پہلے میں اردو میں کچھ بھی ٹائپ کروانے کے لئے دوسروں کا محتاج تھا آج میں اردو لکھنا انگریزی لکھنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ الحمد للہ۔
غور کریں زبان کا حق صرف یہی نہیں ہوتا کہ اس کے بولنے والے زیادہ ہوں۔ زبان کو زندہ رکھنا اس سے زیادہ اہم ہے۔

0 تبصرے :

تبصرہ تحریر کریں :